سٹاک ایکسچینج کیلئے رواں اپریل گذشتہ 14 سال کا بدترین اپریل ثابت ہوا

کراچی: پاکستان سٹاک ایکسچینج کے لئے اپریل 2019 گذشتہ 14 سال کا بدترین اپریل ثابت ہوا جس کے سبب سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔

ملک کے معاشی حالات سٹاک مارکیٹ پر اثرانداز ہونے لگے، یہی وجہ ہے کہ اپریل 2019 مارکیٹ کے لئے بھاری ثابت ہوا جس نے اپریل میں گراوٹ کا گذشتہ 14 سال کا بھی ریکارڈ توڑ ڈالا۔اپریل میں سٹاک مارکیٹ کا 100 انڈیکس 4 اعشاریہ 8 فیصد یعنی 1865 پوائنٹس نیچے گر گیا جس کے باعث سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے۔

گذشتہ ماہ سٹاک مارکیٹ 3 سال کی کم ترین سطح 36 ہزار 404 پوائنٹس کی سطح پر بھی دیکھی گئی، ایک ماہ میں مارکیٹ میں حصص کی خریدو فروخت کا اوسط حجم 14 کروڑ 20 لاکھ رہا، اپریل میں بیرونی سرمایہ کاروں نے 12 لاکھ ڈالر مالیت کے حصص خریدے۔

سٹاک تجزیہ کاروں کے مطابق آئی ایم ایف پروگرام میں تاخیر کے اثرات بھی سٹاک مارکیٹ پرنمودار ہوئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں